کیا یہ میرا ایک گھٹیہ اندازہ ، سازشی مفروضوں کے بھنڈار سے متاثر سوچ ہے یا ذرا سی حقیقت پسندانہ بات؟َ
ویسے تو پاکستان میں ہمیشہ ہی کرائسس رہا ہے پر اب جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے دو دھڑے آپس میں اقتدار کے لئے رسہ کشی میں لگے ہوئے ہیں۔ اوراس اشرافیہ جس میں انکے چمچے سیاستدان، خریدے ہوئے صحافی، رئیل اسٹیٹ بزنسمین وغیرہ شامل ہوتے ہیں انکو عوام کے مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اور میڈیا کو ہمیشہ وہ اپنی ایک کٹھ پتلی کی طرح نچاتے ہیں جس میں جھوٹی، غیرضروری، لایعنی خبریں شامل ہوتی ہیں جو عوام کو ملوں کے چورن کی طرح بیچتے ہیں۔ ایسے میں جب عدالتی بحران اور سیاسی کشمکش ہو تو وہ عوام کو شاکس دینے کی پلاننگ میں لگے رہتے ہیں۔ آپ چاہے اقوام متحدہ کی پوری انویسٹیگیشن رپورٹ پڑھ لیں، چاہے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی، یا کچھ صحافیوں کے کالمز یا کتاب، صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا بینظیر کو کیسے مارنے کا پلان تھا۔ سچ بولنے پر پابندی، سختی اور میڈیا تو اب بھی پابند ہے پر کسی حد تک اب شاید وہ زمانہ نہیں رہا کہ سلیم شہزاد جیسوں کو فوری طور پر مارا جائے جو انکے اور طالبان کے درمیان تعلقات کو عیاں کریں۔ پی این ایس مہران کے حملے میں اندرسے ملے ہووں کی بات ہو یا اے پی ایس کرانے والے احسان اللاہ احسان کا انکے ہاں مہمان ہونا۔ حمید گل سے لیکر جنرل فیض تک سب کے کرتوت طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ اور اس حوالے سے سب کے سامنے آچکے ہیں۔خود انکے تجربے عمران خآن کے بیانات رکارڈ پر ہیں۔ تو میں آنا اس بات پر چاہ رہا تھا کہ ایسے کرائسس جس میں فوج کی کچھ بدنامی ہونے لگے تو وہ ہمیشہ ایڈونچرزم کاسہارا لیتے ہیں چاہے اس میں قیمتی انسانی جان ہی کیوں نہ چلی جائے، انسانی زندگی ہی کیوں نہ ضایع ہوجائے یا عوام کے لیڈر کی جان لینے کی نوبت آجائے۔ ماضی میں سیاستدانوں کا قتل، صحافیوں کا قتل سے صحافی واقف ہی ہیں۔ ایسے میں بلاول جسکی ماں کو جنہوں نے مارا انہی کے جوتے چاٹتے ہوئے بلاول نے مودی کے بارے میں جو غیر ڈپلومیٹک، غیر مناسب اور غیر اخلاقی بیان دیا اسکی بہت سارے سمجھدار انٹلیکچئل شخصیات نے مذمت کی ہے اور ایسی امید عمران خان جیسے بد زبان سے تو سب کی ہوتی ہے پر بلاول میں کچھ تو اسکے باپ دادا اور ماں جیسا ظرف اور سمجھ ہونی چاہیے تھی۔ جہاں تک مودی کے بارے میں بات کا تعلق ہے اس واقعے کی تفصیل اور گہرائی میں جانے کی ضرورت ہے ، سنی سنائی اور اشرافیہ کی پیدا کردہ اس ہندو اور انڈیا نفرت پر بس سن کے ہی آمنا صدقنا نہیں بولنا چاہیے۔ انکے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی پڑھ لیں جو آپ کو تحقیق پر مجبور کرسکتا ہے اگر آپ سچ جانناچاہتے ہیں۔ اس میں بلکل غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے پر انڈیا کے سپریم کورٹ پرانکی بہترین رپیوٹیشن کی وجہ سے شک کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ معاف کیجئے گا وہاں کا عدالتی نظام ہمیشہ آزاد اور خود مختار اور غیر جانبدار رہا ہے جبکہ یہاں کے عدالتی فیصلوں میں اقلیتوں اور توحین جیسے مذھبی فیصلوں کے حوالے سے انصاف سے زیادہ مذھبی جانبداری واضح نظر آتی ہے۔ جبکہ انڈیا کے سیکیولر آئین اوربرابری والے قوانین کی وجہ سے آج مسلمان وہاں پاکستان سے زیادہ خوشحال ہیں اور یہاں مسلمان ہندو کے ختم ہونے کا انتظام کرتے آئے ہیں۔ بحرحال بات پھر کسی اور طرف چلی گئی۔ تو یہاں کے عدالتی نظام کے آزاد اور غیر جانبدار ہونے کا پاکستان کا اچھاچاہنے والے سیاستدان، صحافی، معاشی ایکسپرٹ ، وکلا، عوام وغیرہ بس خواب ہی دیکھتے رہے ہیں جو کبھی شرمندہ تعبیر ہونے کی امید بھی نہیں کہ اسٹبلشمنٹ اس پر سے اپنا ہاتھ اٹھانے کو راضی ہی نہیں ہوئی۔ تو ایسے کرائسس میں جبکہ فوج کے خلاف ماحول پی ٹی آئی کے اپنے مفادات کے لئے ہی سہی گرم ہو اورپھر کچھ صحافی اور لکھاری بھی اس سچ کو بار بار لکھیں، دوسری طرف جو عوام کی معاشی بدحالی، غربت، تعلیم اور صحت کی بد ترین حالت ہو۔ جس میں کرتا دھرتا اور سیاستدان کچھ بھی نہ کررہے ہوں ، الٹا عوام کو غیر ضروری بحثوں میں میڈیا کے ذریعے الجھا کے رکھا ہو پرپھر بھی وہ کافی نہ ہوپائے تو روایتن یہ ملڑی اسٹبلشمنٹ اپنا خونی کھیل کھلینے کا پلان بناتی ہے ۔انہیں انسانی جان کی پرواہ تو کبھی رہی نہیں، چاہے وہ بلوچوں کا قتل عام ہو، پشتونوں کا، نئے سندھی ایم کیو ایم یا پرانے سندھیوں کا۔ وہ صحافی ہو ،مقبول لیڈر یا مقبول لیڈر کا بیٹا۔ شاید میں سرے سے ہی اس خیال کے بارے میں غلط ہوں پر جسطرح کی پاکستان کی تاریخ اور معاملات رہے ہیں۔ اس بار عوام کو ایک بڑا شاک دینے، اپنی انڈیا کے بارے میں اہمیت اورزیادہ بڑھانے اور سارا بجٹ لینے کے حقدار ٹھہرنے ، انڈیا اور ہندونفرت کو مزید تقویت دینے اور عوام کا دھیان اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے خدانخواستہ بلاول کو انڈیا میں نہ ٹارگٹ کریں۔ دعا ہے کہ یہ میرا بس ایک گھٹیہ اندازہ ہی ہو۔


