میں حیران ہوتا ہوں کہ یورپ میں پوری دنیا سےلوگ آتے ہیں پر صرف مسلم ہی یہا ں کےمعاشرےمیں ایڈجسٹ نہیں ہوتے ، گھلتے ملتے نہیں، سوسائٹی میں کنٹریبیوٹ نہیں کرتے ۔ اور تو اور اچھی زندگی تک نہیں گزارتے۔ اگر ریسٹورنٹ میں کارکرتے ہیں تو اسی میں لگے رہتے ہیں کہ آسپاس کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے قریب ایک ریسٹورنٹ تھا وہاں کوئی پاکستانی کام کرتے تھے ہم نے ایک دن ان سے پوچھا کہ یہاں قریبی کوئی اسڑابیریز کے فارمز ہیں۔ وہ 30 سال سے یہاں ہیں اور انکو معلوم نہیں ۔ ہمیں ایک فرینچ سے ہی پتہ چلا۔ یہ تو چھوٹی سی بات تھی۔ میں نے انڈینز کو پارٹی میں، یا بار میں یا ویسے ہی مقامی لوگوں کے ساتھ دیکھا، نہ صرف بات کرتے بلکہ پیتے ہوئے،یا گھومتے ہوئے پر کسی عام پاکستانی کو نہیں ۔دراصل میں شایداصل موضوع سے ہٹ گیا ہوں۔ کہنا مجھے یہ ہے کہ جب مسلمان یورپ آتے ہیں تو انکو پتہ نہیں ہوتا کہ1 یہ اسلامی ملک نہیں ہے، ہہاں پر شراب بھی پی جاتی ہے جو کہ ماڈریشن میں پی جائے تو صحت، دل و دماغ کے لئے فائدمند ہے، جو کہ زندگی کو ایک سرشاری کی کیفیت میں دنیاکی خوبصورتی کو دیکھنے کا اپنا ہی ایک انداز پیش کرتی ہے. انسان زندگی کے ایک اسرار کوجاننے کی مزیدارتگ ودو میں لگنے کی خواہش محسوس کرتا ہے۔2 لوگ صاف ستھرا گوشت کھاتے ہیں جن کو یہ حرام سمجھتے ہیں اور یہ لوگ حلال حرام کا چکر شروع کردیتے ہیں۔ 3 اسکولوں میں انسانیت کی تعلیم دی جاتی ہے کسی خاص مذھب کی نہیں تو پھر یہ اپنی مسجدوں میں تبلیغ کرکے معصوم بچوں اور ناواقف بے شعور لوگوں کا اور دماغ خراب کرتے ہیں۔ کچھ تو جاکرمعصوم انسانوں پر حملے کردیتے ہیں ۔کچھ لڑکے لوگوں پر چھری چلانے لگتےہیں۔4 لباس موسم کے مطابق پہنا جاتا ہے اور یہ لوگ اپنا پرانا سا توب، شلوارقمیص اورسخت گرمی میں بھی برقعہ حجاب وغیرہ پہنتے ہیں۔ انکے لباس کو بے حیائی والا سمجھتے ہیں بلکہ یہ تو ان سے اخلاق میں صدیوں آگے ہیں ۔ یہ سمجھ چکے ہیں کہ گھٹیہ سوچ یا بے حیائی والی سوچ اور ریپ والے واقعات انسانی جبلتوں اور ضرورتوں کو زبردستی کچلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے اچھے اور موسم کے مطابق لباس کو نایاب کرنے اور انسانی جسم کو چھوٹی سوچ کی وجہ سے چھپانے اور اس لباس اور کاموں کو نایاب کرنے سے فرسٹریشن بڑھتی ہے اور گھٹیہ سوچ پروان چڑھتی ہے۔ پھر وہی گند اور عیاشی کا ماحول بنتا ہے جو سعودیہ سے آنے والے میرے رشتہ دار بیان کرتے ہیں۔ اور پاکستان میں ہونے والے بہیمانہ، وحشیانہ ریپ اس کا ثبوت ہیں۔ قبروں سے لاش نکال کر ریپس اور گھروں میں ہونے والے ماریٹل اور انسیسٹیل ریپس اس ماحول کو عیاں کرتے ہیں جو غیر عقلی اور مذھبی جذباتیت کی بنا پر رائج کی گئی پابندیوں کی وجہ سے
ایسے واقعات کو جنم دیتی ہیں جو رپورٹ تک نہیں ہوتے۔ نوجوان اسی وجہ سے ہر وقت فرسٹریشن کا شکار رہتے ہوئے زندگی میں اپنی صلاحیتوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ایسی ہی جاھلانہ میل جول کی پابندیوں میں ہی الجھے رہنے کی وجہ سے اپنا وقت بجائے صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بچارے اسی آسودگی کو پورا کرنے کے مختلف طریقوں میں لگ جاتے ہیں جبکہ یورپ اور مغرب میں اس ضرورت سے فورن فارغ ہوکرنوجوان اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔جیسے کام کے دوران بھوک لگی کھانا کھایا اور کام کے تسلسل کو جاری رکھا۔ پر مسلموں کے بھیجے میں ایسا فلسفہ ایسی عاقلانہ اور سمجھدارانہ سمجھ گھستی ہی نہیں اور الزام لباس کو دیتے ہیں، آزادانہ ماحول کودیتے ہیں اور اپنا بیوقوفانہ فلسفہ نہ صرف ہر جگہ گھسانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ دوسروں پر بھی اپنی اس مدہ خارج اسلامی سوچ کو تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر مظلامیت کا ڈرامہ تو انکا سب سے پرانہ ھتھیارہے۔